menu-iconlogo
huatong
huatong
umar-hijar-cover-image

HIJAR

Umarhuatong
prettyqqs 님이 업로드함
جوانی حجر کھا گیا

نادانی بس نہ کی ہم نے

خلاصہ کر کے بولیں تو

میری تقدیر جھوٹی تھی

فسانے لکھ دیئے گویا

کھانی پڑھ کے رو گے

ہمیشہ وقت پے لوٹے

محبت پھر بھی روٹھی تھی

سوراھی توڑ کے میں نے

دیئے کافی جلائے تھے

نہ جانے آگ کب بھڑکی

کے میرا گھر بھی جل اٹھا

میری دیوار پے لٹکے

وہ تیرے روپ کے خاکے

جنہیں تم بھول بیٹھے ہو

وہ اب بھی ہیں وہیں اٹکے

آوازیں دے کے تھک بیٹھے

تو باری اشکوں کی آئی

جوانی حجر کھا گیا

کھانی پھر وہیں آئی

آوازیں دے کے تھک بیٹھے

تو باری اشکوں کی آئی

جوانی حجر کھا گیا

کھانی پھر وہیں آئی

دیکھ آج پھر آیا ہوں کہنے تجھے

کچھ بولنا مت. مجھے کہ لینے دے

کل بھی تو آیا تھا کہنے تجھے

تیری مان لی تھی کچھ نہ بولا تھا میں

آج مان لے میری. تو مان ہے میرا

دل میں میرے بس مکان ہے تیرا

تو جانتی ہے بدگُمان نہیں ہوں

وقت کے ہاتھوں امتحان ہے میرا

میں بولتا نئی، پر کسور ہے تیرا

بولوں بھی کیوں تو غرور ہے میرا

یوں بات الگ گیا توڑا بھت

بکھر گیا سارا نور ہے میرا

میں کل پھر آونگا کہنے تجھے!

کے تیرے زخم مجھے سہنے ہی تھے

تم جان نہ پائی کے جان ہو تم

یاں جان کے لیتی ہو جان یے تم؟

آوازیں دے کے تھک بیٹھے

تو باری اشکوں کی آئی

جوانی حجر کھا گیا

کھانی پھر وہیں آئی

آوازیں دے کے تھک بیٹھے

تو باری اشکوں کی آئی

جوانی حجر کھا گیا

کھانی پھر وہیں آئی

آج لکھنے کا من نہیں ہے

تم آنکھیں میری یے پڑھ لو نہ

کے دل میں ہے جو زخم تمہارے

وہ داغ بنتے جا رہے ہیں

میں لوٹوں گھر کو بھی کیا منہ لے کے؟

عیلان کر خود ہی آیا تھا

تجھے پا لیا تو ہی جاؤنگا

ورنہ دفن ہو جاؤنگا!

تیرے گھر کی چوکھٹ لہو لوہاں

میرا جگر میں رکھ جاؤنگا

لگے داغ دہو بھی نہ پاوگے

تمہیں اتنا دور کر جاؤنگا

تم جیت جاوگے تھ ہے یے

میں ہار کے مسکراؤں گا

تم جشن کر کے پشتاوگے

تمہیں اس قدر یاد آونگا

추천 내용

더 보기logo

관련 플레이리스트

더 보기logo