جوانی حجر کھا گیا
نادانی بس نہ کی ہم نے
خلاصہ کر کے بولیں تو
میری تقدیر جھوٹی تھی
فسانے لکھ دیئے گویا
کھانی پڑھ کے رو گے
ہمیشہ وقت پے لوٹے
محبت پھر بھی روٹھی تھی
سوراھی توڑ کے میں نے
دیئے کافی جلائے تھے
نہ جانے آگ کب بھڑکی
کے میرا گھر بھی جل اٹھا
میری دیوار پے لٹکے
وہ تیرے روپ کے خاکے
جنہیں تم بھول بیٹھے ہو
وہ اب بھی ہیں وہیں اٹکے
آوازیں دے کے تھک بیٹھے
تو باری اشکوں کی آئی
جوانی حجر کھا گیا
کھانی پھر وہیں آئی
آوازیں دے کے تھک بیٹھے
تو باری اشکوں کی آئی
جوانی حجر کھا گیا
کھانی پھر وہیں آئی
دیکھ آج پھر آیا ہوں کہنے تجھے
کچھ بولنا مت. مجھے کہ لینے دے
کل بھی تو آیا تھا کہنے تجھے
تیری مان لی تھی کچھ نہ بولا تھا میں
آج مان لے میری. تو مان ہے میرا
دل میں میرے بس مکان ہے تیرا
تو جانتی ہے بدگُمان نہیں ہوں
وقت کے ہاتھوں امتحان ہے میرا
میں بولتا نئی، پر کسور ہے تیرا
بولوں بھی کیوں تو غرور ہے میرا
یوں بات الگ گیا توڑا بھت
بکھر گیا سارا نور ہے میرا
میں کل پھر آونگا کہنے تجھے!
کے تیرے زخم مجھے سہنے ہی تھے
تم جان نہ پائی کے جان ہو تم
یاں جان کے لیتی ہو جان یے تم؟
آوازیں دے کے تھک بیٹھے
تو باری اشکوں کی آئی
جوانی حجر کھا گیا
کھانی پھر وہیں آئی
آوازیں دے کے تھک بیٹھے
تو باری اشکوں کی آئی
جوانی حجر کھا گیا
کھانی پھر وہیں آئی
آج لکھنے کا من نہیں ہے
تم آنکھیں میری یے پڑھ لو نہ
کے دل میں ہے جو زخم تمہارے
وہ داغ بنتے جا رہے ہیں
میں لوٹوں گھر کو بھی کیا منہ لے کے؟
عیلان کر خود ہی آیا تھا
تجھے پا لیا تو ہی جاؤنگا
ورنہ دفن ہو جاؤنگا!
تیرے گھر کی چوکھٹ لہو لوہاں
میرا جگر میں رکھ جاؤنگا
لگے داغ دہو بھی نہ پاوگے
تمہیں اتنا دور کر جاؤنگا
تم جیت جاوگے تھ ہے یے
میں ہار کے مسکراؤں گا
تم جشن کر کے پشتاوگے
تمہیں اس قدر یاد آونگا